آج یہ تاریخی نسخہ سویڈن کی نیشنل لائبریری (National Library of Sweden) میں محفوظ ہے۔ سائنسی تحقیق اور ہینڈ رائٹنگ کے تجزیے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اسے واقعی ایک ہی شخص نے لکھا تھا، لیکن اس کام کو مکمل کرنے میں ایک رات نہیں بلکہ تقریباً 20 سے 30 سال کا عرصہ لگا ہوگا۔
ان اردو ذرائع سے آپ کو کوڈیکس جیگاس کے بارے میں معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔ codex gigas book in urdu
اس کتاب کے بارے میں سب سے مشہور روایت یہ ہے کہ اسے ایک راہب، (Herman the Recluse) نے صرف ایک رات میں لکھا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب اسے اپنے گناہوں کی سزا کے طور پر زندہ دیوار میں چن دینے کا حکم ہوا، تو اس نے جان بچانے کے بدلے ایک ایسی کتاب لکھنے کا وعدہ کیا جس میں انسانیت کا تمام علم موجود ہو۔ جب وہ اسے مکمل نہ کر سکا، تو اس نے شیطان سے مدد مانگی اور اپنی روح کے بدلے یہ کتاب مکمل کروائی۔ کتاب کی چند نمایاں خصوصیات codex gigas book in urdu
: اس کتاب کے صفحہ نمبر 577 پر شیطان کی ایک بڑی اور خوفناک تصویر بنی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے اسے "شیطان کی بائبل" کہا جاتا ہے۔ codex gigas book in urdu
یہ تقریباً 3 فٹ (92 سینٹی میٹر) لمبی اور 20 انچ چوڑی ہے۔
Here’s a review of the (often called the Devil’s Bible ) specifically looking at resources available in the Urdu language —whether books, articles, or online summaries.
(Codex Gigas) ، جسے عام طور پر "شیطانی بائبل" (Devil's Bible) بھی کہا جاتا ہے، دنیا کا سب سے بڑا اور پراسرار قرونِ وسطیٰ کا قلمی نسخہ ہے۔ اردو زبان میں اس کتاب کی تاریخ اور اس سے جڑے حقائق کا خلاصہ نیچے دیا گیا ہے: تاریخی پس منظر